News

Patidar on RCB’s encore: ‘We didn’t just play but we dominated’ – ایک تاریخی جیت

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

ایک تاریخی کامیابی کا سفر

احمد آباد میں رات کے ایک بجے جب رجت پاٹیدار آئی پی ایل کی ٹرافی کے ساتھ پریس کانفرنس روم میں داخل ہوئے تو ان کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جو بہت کچھ بیان کر رہی تھی۔ ایک ایسا کھلاڑی جو عام طور پر بہت کم بولتا ہے، اس لمحے اپنی خوشی کو چھپا نہ سکا۔ یہ کامیابی ان کے لیے دوگنی خاص تھی کیونکہ یہی ان کی 33 ویں سالگرہ کا دن بھی تھا۔

Patidar on RCB’s encore: ‘We didn’t just play but we dominated’

اپنی جیت پر بات کرتے ہوئے پاٹیدار نے کہا، ‘میں بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں، یہ میری سالگرہ ہے اور اس سے بہتر تحفہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ میں ہمیشہ حال میں جینے پر یقین رکھتا ہوں۔ ہم نے بیک ٹو بیک ٹائٹل جیتے ہیں، اب ہمارا اگلا ہدف اسے ہیٹ ٹرک میں بدلنا ہے۔ جب آپ ٹرافیاں جیتتے ہیں تو انفرادی کارکردگی پیچھے رہ جاتی ہے۔’

گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال کی کامیابی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ 2026 کا سفر زیادہ پرسکون تھا۔ ‘پچھلے سال بہت دباؤ تھا، لیکن اس سال میں زیادہ پرسکون تھا۔ جس طرح ہم پورے ٹورنامنٹ میں کھیلے، Patidar on RCB’s encore: ‘We didn’t just play but we dominated’۔ مجھے پورا یقین تھا کہ اگر ہم اسی طرح کھیلے تو ٹائٹل ہمارا ہی ہوگا۔’

کپتانی اور بیٹنگ کا توازن

پاٹیدار نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی بیٹنگ اور کپتانی کو الگ رکھنے کے لیے سخت محنت کی۔ آف سیزن کے دوران دنیش کارتک کے ساتھ کام کرنے سے انہیں کافی مدد ملی، جس کا ثبوت ان کے 501 رنز اور 192.69 کا اسٹرائیک ریٹ ہے۔ انہوں نے فاف ڈوپلیسی سے کپتانی کے گُر سیکھے اور ان کے پر اعتماد انداز کو اپنایا۔

کوچنگ اسٹاف کا کردار

ٹیم کی کامیابی میں انہوں نے خاص طور پر اومکار سالوی اور اینڈی فلاور کی تعریف کی۔ سالوی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ انفرادی طور پر بہت وقت گزارتے ہیں، جبکہ اینڈی فلاور کو انہوں نے اپنے کیریئر کا بہترین کوچ قرار دیا۔ پاٹیدار نے کہا کہ ٹیم کلچر میں تبدیلی آئی ہے جہاں ہر کھلاڑی کو برابر اہمیت دی جاتی ہے۔

ایک جذباتی یاد

بات چیت کے دوران ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب پاٹیدار آبدیدہ ہو گئے۔ پچھلے سال پہلی ٹائٹل جیت کے بعد پیش آنے والے افسوسناک واقعہ، جس میں 11 مداح اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘آپ کو یقیناً برا لگتا ہے، آپ اپنے مداحوں کو کھو دیتے ہیں۔ میں یہ ٹرافی ان کے نام کرنا چاہتا ہوں، میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔’

آر سی بی کی یہ جیت نہ صرف ایک کھیل کی فتح ہے بلکہ یہ ٹیم کی متحد کوششوں اور ایک نئے کلچر کے قیام کی کہانی بھی ہے۔ پاٹیدار کی قیادت میں، بنگلور کی ٹیم اب ایک نئی بلندیوں کو چھونے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔