راشد خان کا اعتراف: کمر کی سرجری کے بعد واپسی جلد بازی تھی
راشد خان کا کرکٹ کے میدان میں شاندار کم بیک
دنیا کے صف اول کے ٹی ٹوئنٹی اسپنر راشد خان نے حال ہی میں ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس کمر کی سرجری کے بعد جلد بازی میں کرکٹ کے میدان میں واپس آنا ان کی پیشہ ورانہ کیریئر کی ایک ‘بڑی غلطی’ تھی۔ اس جلد بازی کا اثر ان کی کارکردگی پر بھی پڑا، خاص طور پر آئی پی ایل 2025 میں جہاں وہ اپنی توقعات کے مطابق وکٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
آئی پی ایل 2025: ایک مشکل دور
آئی پی ایل 2025 راشد خان کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ 15 میچز کھیلنے کے باوجود وہ صرف 9 وکٹیں ہی حاصل کر پائے۔ راشد کے مطابق اس ناکامی کی بنیادی وجہ وہ جلد بازی تھی جو انہوں نے اپنی انجری کے بعد دکھائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سرجری کے بعد محض دو ماہ میں دوبارہ کرکٹ شروع کرنا ایک غلط فیصلہ تھا، لیکن افغانستان کی قومی ٹیم کی ضروریات اور ذمہ داریوں کی وجہ سے انہیں میدان میں اترنا پڑا۔
فٹنس پر کام اور نئی زندگی
گزشتہ سال آئی پی ایل کے اختتام کے بعد راشد خان نے مکمل آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے فٹنس پروگرام پر بھرپور توجہ مرکوز کی، خاص طور پر اپنی کمر کو مضبوط بنانے کے لیے سخت محنت کی۔ اس وقفے نے انہیں دوبارہ اپنا ردھم حاصل کرنے میں مدد دی۔ وہ بتاتے ہیں کہ گیند کو کریز سے ریلیز کرنے کا جو ردھم وہ کھو چکے تھے، وہ اب دوبارہ واپس آ گیا ہے۔ 100 بالز کی ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کے بعد ان کا اعتماد بحال ہوا، جس کا نتیجہ آئی پی ایل 2026 میں نظر آ رہا ہے۔
آئی پی ایل 2026: وکٹوں کی برسات
راشد خان اب آئی پی ایل 2026 میں گجرات ٹائٹنز کے لیے ایک بار پھر میچ ونر بن چکے ہیں۔ انہوں نے اب تک 11 میچز میں 15 وکٹیں حاصل کر لی ہیں۔ راجستھان رائلز کے خلاف حال ہی میں کھیلے گئے میچ میں ان کی کارکردگی قابل دید تھی، جہاں انہوں نے 33 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔
میچ کا اہم موڑ اور راشد کی حکمت عملی
راجستھان رائلز کے خلاف میچ میں، جب راشد خان ساتویں اوور میں بولنگ کے لیے آئے، تو حریف ٹیم کا رن ریٹ 12.28 تک پہنچ چکا تھا۔ راشد نے آتے ہی اپنی جادوئی اسپن سے دھرو جریل اور ڈونووین فریرا کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کا ماننا ہے کہ جب وکٹ میں مدد موجود ہو، تو گیند کی رفتار میں ردوبدل کرنا سب سے اہم ہوتا ہے۔
- درستگی: راشد کا کہنا ہے کہ وہ گیند کو درست جگہ پر پچ کرنے کے ساتھ ساتھ لائن پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
- اسٹمپس کا ہدف: ان کے مطابق اگر گیند تینوں اسٹمپس پر ہو تو بلے باز کے لیے شاٹ کھیلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ذہنی تیاری اور پیش گوئی
راشد خان نے بتایا کہ فریرا کے خلاف وکٹ حاصل کرنے سے پہلے ہی انہوں نے اپنے ذہن میں ایک منصوبہ تیار کر لیا تھا۔ ‘میں نے گیند کرانے سے پہلے ہی اپنے ذہن میں وہ مووی چلا لی تھی کہ گیند کہاں گرانی ہے اور بلے باز کیسے آؤٹ ہوگا۔’ یہ خود اعتمادی ہی ہے جو انہیں دنیا کا بہترین اسپنر بناتی ہے۔ شبھم دوبے اور رویندر جڈیجہ کی وکٹیں لے کر انہوں نے گجرات ٹائٹنز کی 77 رنز کی بڑی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
راشد خان کی یہ واپسی نہ صرف گجرات ٹائٹنز کے لیے خوش آئند ہے بلکہ تمام کرکٹ شائقین کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ انجری کے بعد جلد بازی سے زیادہ اپنے جسم کی بحالی پر وقت لگانا کتنا ضروری ہے۔
