Cricket News

ریان پراگ کا رویہ پھر تنقید کی زد میں: مداح کے ساتھ بدتمیزی کا ویڈیو وائرل

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

ریان پراگ کا رویہ پھر سوالوں کے گھیرے میں

کرکٹ کے کھیل میں کھلاڑیوں کو صرف میدان میں کارکردگی دکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ انہیں میدان سے باہر بھی اپنے مداحوں کے لیے ایک رول ماڈل کا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، راجستھان رائلز کے کپتان ریان پراگ اس حوالے سے مسلسل خبروں میں ہیں۔ ان کی حالیہ حرکتوں نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو اپنے جذباتی رویے پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

مداح کے ساتھ بدتمیزی کا واقعہ

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں 24 سالہ ریان پراگ کو اپنے ٹیم ہوٹل کے باہر ایک چھوٹے سے بچے کے ساتھ تلخ لہجے میں بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ بچہ، جو ایک مداح کے طور پر ان سے آٹوگراف لینے کی کوشش کر رہا تھا، مسلسل درخواست کر رہا تھا، مگر جواب میں پراگ نے نہ صرف اسے نظر انداز کیا بلکہ انتہائی غیر شائستہ انداز میں ‘ہٹ’ کہہ کر اسے پیچھے دھکیل دیا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکیورٹی عملہ پراگ کے ساتھ موجود ہے اور مداحوں کی جانب سے بار بار التجا کے باوجود کھلاڑی کا رویہ انتہائی سرد مہر رہا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب راجستھان رائلز کو آئی پی ایل میں اپنی مسلسل تیسری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تنازعات کا پرانا ناطہ

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ریان پراگ کسی تنازع میں پھنسے ہیں۔ اس سے قبل اسی سیزن کے دوران، ملا پور میں پنجاب کنگز کے خلاف میچ کے دوران انہیں ڈریسنگ روم میں ویپنگ (vaping) کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس غیر پیشہ ورانہ رویے پر بی سی سی آئی (BCCI) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں جرمانہ کیا تھا اور ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ بھی دیا تھا۔

شائقین کرکٹ کا شدید ردعمل

سوشل میڈیا پر شائقین نے اس واقعے پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ ایک مداح نے لکھا، ‘مداحوں کے لیے صفر محبت، یہ لوگ کس کے آئیڈل بنیں گے؟’۔ وہیں ایک اور صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘پراگ کو میدان میں اپنی فیلڈنگ اور حکمت عملی پر توجہ دینی چاہیے، جہاں وہ خود فیلڈنگ میں غلطیاں کر رہے ہیں اور ساتھی کھلاڑیوں پر چیخ رہے ہیں۔’

واقعی، کرکٹ کے بڑے نام جیسے روہت شرما اور ایم ایس دھونی ہمیشہ اپنے مداحوں کے لیے وقت نکالتے ہیں، اور یہی چیز انہیں ایک عظیم کھلاڑی بناتی ہے۔ مداحوں کا ماننا ہے کہ کارکردگی تو کھیل کا حصہ ہے، لیکن عاجزی اور احترام ایک کھلاڑی کی پہچان ہے۔

میچ کے بعد کا مایوس کن منظر

دہلی کیپیٹلز کے خلاف شکست کے بعد پراگ کا رویہ میدان کے اندر بھی دیکھنے والا تھا۔ 194 رنز کے ہدف کے تعاقب میں، راجستھان رائلز کی ٹیم فیلڈنگ میں بری طرح ناکام رہی۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں خود پراگ نے تسلیم کیا کہ، ‘ہم نے میدان میں جو کچھ دکھایا وہ معیار کے مطابق نہیں تھا۔ اگر ہم اس طرح کھیلتے رہے تو پلے آف میں جانے کے مستحق نہیں ہیں۔ اگر ہم کوالیفائی نہیں کر پاتے تو ہمیں خود کو قصوروار ٹھہرانا چاہیے، دوسروں کو نہیں۔’

یہ تسلیم کرنا کہ ٹیم نے اچھا نہیں کھیلا، ایک کپتان کے طور پر ان کا ذمہ دارانہ بیان ہو سکتا ہے، لیکن مداحوں کے ساتھ بدتمیزی کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ کیا ریان پراگ اپنی غلطیوں سے سیکھیں گے اور ایک بہتر انسان بن کر ابھریں گے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال تو ان کا رویہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔