Cricket News

راجستھان رائلز بمقابلہ لکھنؤ سپر جائنٹس: آئی پی ایل 2026 پلے آف کی جنگ اور جے پور کا چیلنج

Snehe Roy · · 1 min read
Share

راجستھان رائلز بمقابلہ لکھنؤ سپر جائنٹس: جے پور کا ‘ہوم گراؤنڈ’ ڈراؤنا خواب بن گیا

آئی پی ایل 2026 کا 64واں میچ منگل، 19 مئی کو سوائی مان سنگھ اسٹیڈیم، جے پور میں کھیلا جائے گا۔ راجستھان رائلز کے لیے یہ میچ کسی فائنل سے کم نہیں ہے، کیونکہ پلے آف کی دوڑ اب اپنے آخری اور دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ شام 7:30 بجے شروع ہونے والے اس مقابلے میں راجستھان کو نہ صرف لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف جیتنا ہے بلکہ اپنے ہی ہوم گراؤنڈ پر ہارنے کے تسلسل کو بھی توڑنا ہے۔

پلے آف کی صورتحال اور ٹیموں کی پوزیشن

راجستھان رائلز اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر 5ویں نمبر پر موجود ہے، جس نے 12 میچوں میں سے 6 جیتے اور 6 ہارے ہیں۔ 12 پوائنٹس کے ساتھ ان کے پاس ابھی بھی ٹاپ 4 میں جگہ بنانے کا سنہری موقع ہے، بشرطیکہ وہ اپنے بقیہ میچز جیتیں۔ دوسری طرف، لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کی ٹیم پلے آف کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے۔ 12 میچوں میں محض 4 فتوحات اور 8 پوائنٹس کے ساتھ لکھنؤ کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے، جو انہیں ایک خطرناک حریف بناتا ہے کیونکہ وہ بغیر کسی دباؤ کے کھیلیں گے۔

راجستھان کی بولنگ: بہترین سے بدترین تک کا سفر

راجستھان رائلز کے لیے سب سے بڑی تشویش ان کی بولنگ لائن اپ کی گرتی ہوئی کارکردگی ہے۔ سیزن کے پہلے ہاف میں راجستھان کی بولنگ آئی پی ایل کی بہترین بولنگ مانی جا رہی تھی، جہاں ان کا بولنگ اوسط 21.63 اور اسٹرائیک ریٹ 14.8 تھا۔ تاہم، آخری پانچ میچوں میں یہ اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہو چکے ہیں۔ ان کا بولنگ اوسط بڑھ کر 51.42 اور اسٹرائیک ریٹ 27.7 تک جا پہنچا ہے۔

خاص طور پر جے پور کا سوائی مان سنگھ اسٹیڈیم راجستھان کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم ثابت نہیں ہوا۔ آئی پی ایل 2025 سے اب تک راجستھان نے یہاں 8 میچ کھیلے ہیں اور صرف 1 میں کامیابی حاصل کی ہے۔ رواں سیزن میں بھی وہ اپنے گھر پر کھیلے گئے تمام تین میچز ہار چکے ہیں۔

لکھنؤ کی بیٹنگ کا طوفان: مچل مارش اور جوش انگلس کا خطرہ

اگرچہ لکھنؤ سپر جائنٹس ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہے، لیکن ان کی بیٹنگ لائن اپ حالیہ میچوں میں کافی جارحانہ نظر آئی ہے۔ جوش انگلس کی ٹاپ آرڈر میں شمولیت نے ٹیم کی بیٹنگ کو ایک نئی زندگی دی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سیزن کے پہلے 8 میچوں میں لکھنؤ کا ٹاپ آرڈر صرف 25.52 کی اوسط اور 134.63 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنا رہا تھا، جس میں صرف دو نصف سنچریاں شامل تھیں۔

لیکن آخری چار میچوں میں یہ اوسط بڑھ کر 49.09 اور اسٹرائیک ریٹ 188.15 تک پہنچ گیا ہے۔ مچل مارش، جوش انگلس اور نکولس پورن کی تکڑی نے حریف بولرز کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ مچل مارش کی حالیہ سنچری اس بات کا ثبوت ہے کہ لکھنؤ کی بیٹنگ کسی بھی بولنگ اٹیک کو تہس نہس کر سکتی ہے۔

ٹیموں میں ممکنہ تبدیلیاں اور اہم کھلاڑی

راجستھان رائلز اپنی بولنگ کو مضبوط کرنے کے لیے بائیں ہاتھ کے پیسر سشانت مشرا کو ڈیبیو کروا سکتی ہے، تاکہ لکھنؤ کے ٹاپ آرڈر کے دائیں ہاتھ کے بلے بازوں کو پریشان کیا جا سکے۔ دوسری طرف، تجربہ کار آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ انجری کی وجہ سے اس میچ میں بھی شرکت نہیں کر سکیں گے، جو راجستھان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

لکھنؤ کی ٹیم میں ایوش بدونی کی واپسی متوقع ہے تاکہ مڈل آرڈر کو مزید استحکام دیا جا سکے۔ راجستھان کی جیت کا دارومدار ریان پراگ اور ڈونوان فریرا کی بیٹنگ پر ہوگا، جبکہ لکھنؤ کا پیس اٹیک ویبھو سوریاونشی جیسے نوجوان بلے بازوں کا امتحان لے گا۔

جے پور کی پچ اور موسم کی توقعات

جے پور کی پچ بیٹنگ کے لیے سازگار دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اوس (Dew) کا عنصر میچ میں اہم کردار ادا کرے گا، جس کی وجہ سے دوسری اننگز میں بولنگ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم 240 رنز تک کا بڑا ہدف بورڈ پر سجا سکتی ہے۔ شائقین کو ایک ہائی اسکورنگ تھرلر دیکھنے کو مل سکتا ہے جہاں چوکے اور چھکوں کی برسات ہوگی۔

خلاصہ

راجستھان رائلز کے لیے یہ سیزن کا سب سے اہم امتحان ہے۔ اگر وہ جے پور کے منحوس ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ کر بولنگ میں اپنی کھوئی ہوئی فارم واپس پا لیتے ہیں، تو وہ پلے آف کی دوڑ میں مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔ لیکن اگر لکھنؤ کے بلے بازوں نے وہی جارحیت دکھائی جو انہوں نے پچھلے چند میچوں میں دکھائی ہے، تو راجستھان کے لیے سیزن کا سفر مشکل ہو جائے گا۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.