‘High-quality’ Saleem limits damage despite extreme heat and unhelpful pitch
محمد سلیم کی شاندار بولنگ: ایک مشکل دن کی کہانی
نیو چنڈی گڑھ میں کھیلے جا رہے واحد ٹیسٹ میچ میں افغانستان کے فاسٹ بولر محمد سلیم نے اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا ہے۔ اگرچہ افغانستان کی بیٹنگ لائن اپ بھارتی گیند بازوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی، لیکن سلیم کی 6 وکٹوں نے ٹیم کو ایک بھاری شکست سے بچانے کی کوشش کی۔ ‘High-quality’ Saleem limits damage despite extreme heat and unhelpful pitch کے عنوان سے یہ کارکردگی کرکٹ کے حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔
شدید گرمی میں استقامت کا مظاہرہ
محمد سلیم نے انتہائی شدید گرمی اور ایسی پچ پر جہاں گیند بازوں کے لیے مدد نہ ہونے کے برابر تھی، مسلسل 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کی۔ انہوں نے نہ صرف شوبمن گل کو 126 رنز پر وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ کروایا بلکہ دھرو جریل، مانو ستھار اور محمد سراج کو بھی پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کی مجموعی کارکردگی 140 رنز کے عوض 6 وکٹیں رہی، جو کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ایک شاندار کارنامہ ہے۔
ماہرین کی رائے اور سراہنا
افغانستان کے ہیڈ کوچ رچرڈ پائبس نے سلیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس قدر گرمی میں اعلیٰ معیار کی بیٹنگ کے خلاف چھ وکٹیں لینا کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں۔ پائبس کے مطابق، سلیم نے ایک درست لائن اور لینتھ پر گیند بازی کی جو کھیل میں رہنے کے لیے سب سے ضروری ہے۔ بھارتی آل راؤنڈر واشنگٹن سندر نے بھی سلیم کی مہارت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پچ سے کوئی خاص مدد نہ ملنے کے باوجود سلیم کا مستقل مزاجی سے سیم پر گیند کرانا ان کی تکنیک اور مضبوط کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
فیصلہ سازی میں ناکامی اور ڈی آر ایس کا بحران
افغانستان کے لیے میچ کا ایک تاریک پہلو ڈی آر ایس (DRS) کا غلط استعمال یا اس کا استعمال نہ کرنا رہا۔ ٹیم کی جانب سے کئی اہم فیصلوں پر ریویو نہ لینے کے باعث بھارت کو فائدہ پہنچا۔ رچرڈ پائبس نے اعتراف کیا کہ ٹیم کا فیصلہ سازی کا عمل کافی ‘زنگ آلود’ تھا اور کپتان سمیت فیلڈرز فیصلے کرنے میں سست روی کا شکار رہے۔ خاص طور پر شوبمن گل اور رشبھ پنت کے خلاف فیصلوں پر ریویو نہ لینا میچ کا رخ موڑنے والا ثابت ہوا۔ اس سے قبل کے ایل راہول کو بھی 16 کے اسکور پر آؤٹ نہ کرنے کا خمیازہ افغانستان کو بھگتنا پڑا۔
میچ کی موجودہ صورتحال
دوسرے دن کے کھیل کے اختتام پر افغانستان کی ٹیم مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ 564 رنز کے بھارتی اسکور کے جواب میں افغان ٹیم 113 رنز پر 5 وکٹیں گنوا چکی ہے اور اسے ابھی بھی بھارت کے اسکور تک پہنچنے کے لیے مزید 451 رنز درکار ہیں۔ یہ واضح ہے کہ اگر سلیم نے اپنی بولنگ سے نقصان کو محدود نہ کیا ہوتا تو افغانستان کی پوزیشن اس سے بھی زیادہ نازک ہو سکتی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا افغانستان کے باقی بلے باز آخری دنوں میں مزاحمت کر پاتے ہیں یا بھارت اس میچ کو آسانی سے اپنے نام کر لے گا۔
نتیجہ
محمد سلیم کی انفرادی کارکردگی نے ثابت کیا ہے کہ عزم اور درست تکنیک کے ساتھ مشکل حالات میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی جا سکتی ہے۔ ٹیم کے طور پر افغانستان کو اپنی فیلڈنگ، کیچنگ اور فیصلہ سازی کے عمل میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے مواقع ضائع نہ ہوں۔
