Cricket News

سلہٹ ٹیسٹ: شان مسعود اور مشفق الرحیم کے درمیان تلخ کلامی، مشفق کی ریکارڈ سنچری

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

سلہٹ ٹیسٹ میں شان مسعود اور مشفق الرحیم کے درمیان میدان میں تلخی

بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سلہٹ میں جاری دوسرے ٹیسٹ کا تیسرا دن کئی لحاظ سے یادگار رہا۔ جہاں بنگلہ دیش نے اپنی برتری کو مزید مستحکم کیا، وہیں میدان میں ایک غیر متوقع اور گرما گرم واقعہ بھی پیش آیا جس نے شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی۔ یہ واقعہ پاکستانی کپتان شان مسعود اور بنگلہ دیش کے تجربہ کار بلے باز مشفق الرحیم کے درمیان پیش آیا، جو میدان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا عکاس تھا۔

بنگلہ دیش کی بیٹنگ کا دباؤ اور پاکستانی ٹیم کا ردعمل

میچ کے تیسرے دن بنگلہ دیش نے اپنی دوسری اننگز میں پاکستان کے باؤلرز پر دباؤ برقرار رکھا۔ پہلے ہاف میں 46 رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد، میزبان ٹیم نے لٹن داس کی برق رفتار نصف سنچری اور تجربہ کار مشفق الرحیم کی شاندار سنچری کی بدولت اپنی برتری کو 350 رنز سے تجاوز کر دیا۔ اس غیر معمولی کارکردگی نے پاکستان کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ اسی تناظر میں، تیسرے دن چائے کے وقفے سے ٹھیک قبل، میدان میں ایک تلخ کلامی دیکھنے میں آئی جس نے میچ کے ماحول کو مزید سنسنی خیز بنا دیا۔

میدان میں لفظی تکرار کا واقعہ

بنگلہ دیش کی دوسری اننگز کے 79ویں اوور کے آغاز سے قبل، پاکستانی کپتان شان مسعود کو امپائرز اور اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ گفتگو کرتے دیکھا گیا۔ اس وقت کریز پر موجود بنگلہ دیش کے بلے باز مشفق الرحیم نے اسٹمپ مائیک پر ریکارڈ ہونے والی گفتگو کے مطابق، پاکستانی کپتان سے ‘کھیل کو آگے بڑھانے’ کا مطالبہ کیا۔ مشفق الرحیم کے یہ ریمارکس بظاہر شان مسعود کو ناگوار گزرے، جس کے بعد دونوں کے درمیان ایک شدید بحث چھڑ گئی [تصویر کا ماخذ: اسکرین گریب]۔ یہ گرما گرم مکالمہ سلہٹ انٹرنیشنل اسٹیڈیم کے ہجوم کو بھی متحرک کر گیا، اور ایک ایسے میچ میں جس کا فیصلہ کن اختتام قریب تھا، یہ واقعہ اس کی سنسنی خیزی میں مزید اضافہ کر گیا۔

مشفق الرحیم کی ریکارڈ ساز سنچری: ایک تاریخی کارنامہ

اس واقعے کے باوجود، مشفق الرحیم نے اپنی بیٹنگ پر توجہ مرکوز رکھی اور بنگلہ دیش کے لیے ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا۔ دو دہائیوں سے زیادہ کے بین الاقوامی کیریئر میں 102 ٹیسٹ کھیلنے والے تجربہ کار مشفق الرحیم نے ایک شاندار سنچری بنائی، جس نے ان کی ٹیم کو تیسرے دن 400 رنز کی برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

14ویں ٹیسٹ سنچری کا سنگ میل اور نئے ریکارڈ

39 سالہ مشفق الرحیم، جو پانچویں نمبر پر بلے بازی کر رہے تھے، نے ساتھی وکٹ کیپر بلے باز لٹن داس کے ساتھ 123 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی، اور پھر تیج الاسلام کے ساتھ 77 رنز جوڑ کر بنگلہ دیش کو مضبوط پوزیشن پر پہنچایا۔ یہ اننگز ان کے کیریئر کی 14ویں ٹیسٹ سنچری تھی جو انہوں نے اپنی 188ویں اننگز میں بنائی۔ اس سنچری کے دوران، مشفق الرحیم نے معین الحق کے 13 سنچریوں کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بنگلہ دیش ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کھلاڑی بن گئے۔ یہ ان کی مہارت، مستقل مزاجی اور ٹیم کے لیے ان کی گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ اشاعت کے وقت، مشفق الرحیم 208 گیندوں پر 11 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 124 رنز بنا کر کریز پر موجود تھے۔

بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان دوسرا ٹیسٹ: اب تک کا احوال

سلہٹ میں جاری یہ ٹیسٹ سیریز کے فیصلے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دونوں ٹیمیں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، جس سے یہ میچ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔

پہلے دن کا کھیل: بنگلہ دیش کی ابتدائی برتری

میچ کے پہلے دن بنگلہ دیش نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 77 اوورز میں 278 رنز بنائے۔ مڈل آرڈر بلے باز لٹن داس نے صرف 159 گیندوں پر 16 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 126 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور اپنی ٹیم کے لیے ٹاپ سکورر رہے۔ پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد (4-81) اور محمد عباس (3-45) نے سات وکٹیں حاصل کرکے اپنی ٹیم کو کچھ حد تک میچ میں واپس لانے کی کوشش کی۔

پاکستان کی جوابی کارروائی اور بنگلہ دیش کا برتری حاصل کرنا

جواب میں، پاکستانی ٹیم صرف 232 رنز پر ڈھیر ہوگئی، اور اس طرح بنگلہ دیش سے 46 رنز پیچھے رہ گئی۔ واپسی کرنے والے سینئر بلے باز بابر اعظم نے 68 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، لیکن ناہد رانا اور تیج الاسلام کی تین تین وکٹوں نے یقینی بنایا کہ میزبان ٹیم کو ایک اہم برتری حاصل ہو۔

تیسرے دن بنگلہ دیش کی برتری میں اضافہ

بنگلہ دیش نے تیسرے دن اپنی برتری کو مزید مستحکم کیا۔ اوپننگ بلے باز محمود الحسن جوئے نے 52 رنز کی نصف سنچری بنا کر ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا۔ اس کے بعد لٹن داس نے برق رفتار 69 رنز بنائے، اور پھر مشفق الرحیم کی شاندار سنچری نے بنگلہ دیش کی پوزیشن کو انتہائی مضبوط بنا دیا، جس نے پاکستان کے لیے ہدف کا حصول مشکل بنا دیا۔ اس طرح، یہ ٹیسٹ ایک سنسنی خیز موڑ پر آچکا ہے جہاں دونوں ٹیموں کی قسمت کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔