سلسلہ: سوراوت گنگولی نے ایم ایس دھونی کو کس طرح بھارتی ٹیم میں شامل کرنے کی قیادت کی؟
سوراوت گنگولی کیسے ایم ایس دھونی کو بھارتی ٹیم تک پہنچانے کا راستہ بنے؟
بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں کئی ایسے حالات آئے ہیں جہاں کسی نوجوان کھلاڑی کی صلاحیتوں کو پہچان کر اسے بڑی ذمہ داری سونپی گئی۔ لیکن شاید ایم ایس دھونی کا معاملہ سب سے نمایاں ہے، جہاں سابق کپتان سوراوت گنگولی نے ایک دلچسپ اور جارحانہ حکمت عملی کے تحت انہیں بھارتی ٹیم تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایک سفارش جو تاریخ بن گئی
گنگولی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سابق قومی سلیکٹر سابا کریم نے انہیں دھونی کے بارے میں بتایا تھا۔ وہ کہتے ہیں: “سابا کریم نے مجھ سے کہا، ‘وہ بہت سی چھکے مارتا ہے۔'” اس بات نے گنگولی کو متاثر کیا، اور دھونی کو براہ راست انڈیا اے کے لیے منتخب کرلیا گیا۔
وہ میچ جس نے تمام ابہام ختم کردیے
دھونی کا پہلا میچ وانکھیڑے اسٹیڈیم میں گنگولی کی قیادت میں انڈیا اے کی جانب سے کھیلا گیا۔ وہاں انہوں نے سنچری اسکور کی اور میدان کی چھت تک چھکے مارے۔ گنگولی کہتے ہیں: “ہمیں انہیں لینا ہی تھا۔ جو صلاحیت رکھتا ہو، اسے فوری طور پر آگے بڑھانا چاہیے۔ اگر آپ اسے پیچھے رکھیں گے تو وہ ذہنی طور پر ختم ہوجائے گا۔”
کرکٹ کا فلسفہ: اوپر والوں کے ساتھ کھیلو، صلاحیت بڑھے گی
گنگولی نے اپنی اس جارحانہ ترقی کے پیچھے ایک کرکٹ فلسفہ بیان کیا۔ وہ کہتے ہیں: “اگر آپ اپنے سے بہتر کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلیں گے تو آپ کا کھیل بہتر ہوگا۔ اگر آپ کمزور کھلاڑیوں کے خلاف کھیلیں گے، تو آپ کی کارکردگی گر جائے گی۔” ان کا یہ نظریہ دھونی کی تیز رفتار ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔
حتمی فیصلے سے پہلے ایک نظر
چونکہ دھونی کو قومی ٹیم کے لیے منتخب کیا جارہا تھا، گنگولی نے حتمی فیصلہ کچھ دن تک مؤخر کردیا۔ وہ چاہتے تھے کہ خود دھونی کا کھیل دیکھیں۔ گنگولی نے انکشاف کیا کہ وہ دھونی کو دیکھنے جمشیدپور گئے، جہاں دھونی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کپتان انہیں دیکھ رہے ہیں۔
کیسے پیدا ہوا ایک اسطورہ؟
دھونی کے سیلیکشن کے بعد، انہیں ایک مشکل مقابلے میں نمبر 3 پر بھیجا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے 123 گیندوں پر 148 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 15 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ یہ اننگز نہ صرف ان کی صلاحیت کی تصدیق تھی، بلکہ بھارتی کرکٹ میں ایک نئے دور کا آغاز بھی تھا۔
آج دھونی بھارتی کرکٹ کے محبوب کپتان کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں 15,000 قریب رنز بنائے اور تین مختلف آئی سی سی ٹرافیاں جیتیں۔ یہ سب کچھ اس وقت شروع ہوا جب گنگولی نے یہ فیصلہ کیا کہ صلاحیت کو وقت نہ دیا جائے بلکہ اسے موقع دیا جائے۔
نتیجہ: ایک تبدیلی کا فیصلہ
سوراوت گنگولی کی قیادت نے کرکٹ میں نوجوان صلاحیتوں کو موقع دینے کی روایت کو مضبوط کیا۔ زاہد خان، ہربھجن سنگھ، ویریندر سہواگ، یوراج سنگھ اور بالآخر ایم ایس دھونی جیسے کھلاڑیوں کو موقع دینا گنگولی کی سب سے بڑی وراثت ہے۔ ان کا یقین تھا کہ کرکٹ میں اگر کوئی قابل ہے، تو اسے روکنا نہیں چاہیے۔
دھونی کے ذریعے گنگولی نے ثابت کیا کہ جرئت اور بصیرت مل کر تاریخ بنتی ہے۔
