بابر اعظم نے سٹیو سمتھ کا بڑا WTC ریکارڈ برابر کر دیا: ایک شاندار واپسی
کرکٹ کی دنیا میں، ریکارڈز کا بننا اور ٹوٹنا ایک عام بات ہے، لیکن کچھ کامیابیاں ایسی ہوتی ہیں جو کھلاڑی کی عظمت اور مستقل مزاجی کا ثبوت ہوتی ہیں۔ پاکستان کے اسٹار بیٹر بابر اعظم نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی واپسی پر ایک شاندار نصف سنچری اسکور کی، اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے آسٹریلوی ریڈ بال کے تجربہ کار سٹیو سمتھ کے ایک بڑے ریکارڈ کو برابر کر دیا ہے۔ یہ سنگ میل بابر کے ٹیسٹ کیریئر میں ایک اہم اضافہ ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) میں ان کی مسلسل کارکردگی کو نمایاں کرتا ہے۔ ان کی واپسی کو ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹیم کو ان کی ضرورت تھی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت بنگلہ دیش کے دورے پر ہے جہاں وہ دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز کھیل رہی ہے۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم، ڈھاکہ میں کھیلا گیا تھا، جہاں پاکستان کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں شرمناک بیٹنگ فلاپ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست نے نہ صرف ٹیم کے مورال کو متاثر کیا بلکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی پوائنٹس ٹیبل پر بھی منفی اثر ڈالا۔ پہلی شکست کے بعد، پاکستان آٹھویں پوزیشن پر آ گیا ہے، اور صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب سست اوور ریٹ کی وجہ سے انہیں آٹھ پوائنٹس کی کٹوتی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور انہیں جلد از جلد اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
پہلے ٹیسٹ میچ میں بابر اعظم پاکستان کی پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں تھے۔ پاکستان سپر لیگ (PSL) کے ایک امید افزا سیزن کے بعد، ان کی چوٹ کی اطلاعات سامنے آئیں جس کی وجہ سے وہ ڈھاکہ میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ ان کی دستیابی کے حوالے سے کئی تنازعات اور قیاس آرائیاں سامنے آئیں، لیکن بالآخر، دوسرے ٹیسٹ کے لیے انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا، جہاں انہوں نے اوپنر امام الحق کی جگہ لی۔ یہ فیصلہ ٹیم مینجمنٹ کے اعتماد کا مظہر تھا کہ بابر اپنی فارم اور تجربے کے ساتھ ٹیم کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔
بابر اعظم نے ریڈ بال فارمیٹ میں اپنی واپسی پر ایک شاندار نصف سنچری اسکور کی، جو ان کی بہترین فارم اور معیار کی عکاسی تھی۔ انہوں نے 84 گیندوں پر 68 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 10 خوبصورت چوکے شامل تھے۔ یہ اننگز ایک ایسے وقت میں آئی جب دوسرے پاکستانی بلے باز ایک بار پھر میزبان ٹیم کے سیمرز کے خلاف جدوجہد کرتے نظر آئے۔ بابر کی اننگز نے ٹیم کو سہارا دیا اور ایک مشکل صورتحال میں انہیں کچھ استحکام فراہم کیا۔ ان کی بیٹنگ تکنیک، تحمل اور جارحانہ انداز کا امتزاج دیکھنے کے قابل تھا، جس نے ثابت کیا کہ وہ دباؤ میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
یہ نصف سنچری بابر اعظم کے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے کیریئر میں 20ویں نصف سنچری تھی۔ اس سے قبل، انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں چار اننگز میں صرف ایک نصف سنچری اسکور کی تھی۔ اس بار، انہوں نے اپنے کیریئر کی 20ویں WTC نصف سنچری مکمل کی، اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے لیجنڈری آسٹریلوی بلے باز سٹیو سمتھ کے ریکارڈ کو برابر کر دیا، جن کے نام بھی WTC کی تاریخ میں 20 نصف سنچریاں ہیں۔ یہ ایک قابل ذکر کامیابی ہے جو بابر کو کرکٹ کے سب سے بڑے ناموں میں سے ایک کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔ ان کی مستقل مزاجی اور بڑے میچوں میں کارکردگی دکھانے کی صلاحیت انہیں خاص بناتی ہے۔
اس فہرست میں صرف انگلینڈ کے تجربہ کار جو روٹ اور مارنوس لبوشین ہی ایسے بلے باز ہیں جن کے پاس ان دو تجربہ کاروں سے زیادہ 50+ اسکور ہیں۔ مارنوس لبوشین کے پاس 24 اور جو روٹ کے پاس 22 نصف سنچریاں ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، بابر اعظم اس فہرست میں شامل ہونے والے پہلے ایشیائی بلے باز بن گئے ہیں، جو ان کی صلاحیتوں اور عالمی سطح پر ان کے اثر کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ریکارڈ نہ صرف بابر کے لیے ایک ذاتی اعزاز ہے بلکہ ایشیائی کرکٹ کے لیے بھی فخر کی بات ہے کہ ان کا ایک کھلاڑی عالمی ٹیسٹ کرکٹ کے بڑے ناموں کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ فہرست عالمی کرکٹ کے بہترین بلے بازوں کی کارکردگی کا آئینہ دار ہے۔
WTC کی تاریخ میں سب سے زیادہ 50+ اسکورز:
- مارنوس لبوشین – 24
- جو روٹ – 22
- بابر اعظم – 20*
- سٹیو سمتھ – 20
- زیک کرولی – 20
بنگلہ دیش کے لیے دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے لمبے دائیں ہاتھ کے تیز گیند باز ناہید رانا ایک بار پھر میدان میں واپس آئے اور ایک اہم وکٹ حاصل کی۔ جب بابر اعظم اور سلمان علی آغا کے درمیان شراکت داری بن رہی تھی، ناہید رانا نے بابر کو آؤٹ کر دیا جو ایک امید افزا نصف سنچری کے ساتھ مضبوط نظر آ رہے تھے۔ اس وکٹ کے ساتھ ہی پاکستان کے آدھے بلے باز پویلین لوٹ چکے تھے۔
بابر کی یہ اننگز اگرچہ ایک بڑی سنچری میں تبدیل نہ ہو سکی، لیکن اس نے ٹیم کو کچھ اعتماد فراہم کیا اور یہ ظاہر کیا کہ وہ مشکلات میں بھی اپنے ملک کے لیے رنز بنا سکتے ہیں۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے، بابر جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی کارکردگی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ٹیم کو اپنی بیٹنگ لائن اپ میں مستقل مزاجی لانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ WTC کی پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پوزیشن بہتر بنا سکیں۔ بابر کا یہ ریکارڈ انہیں عالمی کرکٹ کے ٹاپ بلے بازوں میں برقرار رکھتا ہے اور مستقبل میں ان سے مزید ایسی ہی شاندار کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے۔ ان کی موجودگی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک ترغیب کا باعث ہے کہ وہ کس طرح دباؤ میں بہترین کھیل پیش کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، بابر اعظم کی بنگلہ دیش کے خلاف نصف سنچری صرف ایک انفرادی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ جب ٹیم مشکل میں ہو، تو اس کے ستارے آگے بڑھ کر قیادت کرتے ہیں۔ سٹیو سمتھ جیسے لیجنڈری بلے باز کے ریکارڈ کو برابر کرنا بابر کی مسلسل محنت، عزم اور صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ ان کی عالمی کرکٹ میں پوزیشن کو مزید مستحکم کرتا ہے اور انہیں مستقبل کے ٹیسٹ میچوں میں مزید ریکارڈز قائم کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ پاکستانی شائقین کو امید ہے کہ بابر اعظم کی یہ فارم ٹیم کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں آگے بڑھنے میں مدد دے گی۔
