آئی پی ایل 2026: گجرات ٹائٹنز کے ہاتھوں سن رائزرز حیدرآباد کی شکست، ڈینیئل وٹوری کا تجزیہ
گجرات ٹائٹنز کی تیز رفتار باؤلنگ اور حیدرآباد کی ناکامی
منگل کے روز احمد آباد میں کھیلے گئے آئی پی ایل 2026 کے مقابلے میں سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کو گجرات ٹائٹنز (GT) کے ہاتھوں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 169 رنز کے ہدف کے تعاقب میں حیدرآباد کی پوری ٹیم محض 14.5 اوورز میں ڈھیر ہوگئی، جس کے نتیجے میں گجرات نے 82 رنز سے ایک بڑی فتح حاصل کی۔ اس شکست کے باوجود، حیدرآباد کے لیے مثبت بات یہ ہے کہ وہ اب بھی پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر موجود ہیں، جو ان کی ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر بہتر کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈینیئل وٹوری کا موقف اور میچ کا تجزیہ
میچ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سن رائزرز حیدرآباد کے ہیڈ کوچ ڈینیئل وٹوری نے کہا کہ وہ پہلی اننگز کے اختتام پر مطمئن تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ گجرات کو 168 رنز تک محدود کرنا ایک اچھا فیصلہ تھا، لیکن بیٹنگ کے دوران حالات ان کے قابو سے باہر ہو گئے۔ وٹوری کا کہنا تھا: ‘ہمیں معلوم تھا کہ ان کی باؤلنگ لائن اپ کے خلاف کھیلنا، خاص طور پر جب ان کے پاس پانچ تیز گیند باز اور راشد خان موجود ہوں، ہمیشہ ایک چیلنج ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں وہ آغاز نہیں مل سکا جس کی ہمیں ضرورت تھی اور گجرات کے باؤلرز نے پورے میچ میں اس کا فائدہ اٹھایا۔’
گجرات کے تیز گیند بازوں کا قہر
گجرات ٹائٹنز کی جیت میں ان کے پیس اٹیک نے کلیدی کردار ادا کیا۔ کاگیسو ربادا، محمد سراج، جیسن ہولڈر اور پرسیدھ کرشنا نے مل کر حیدرآباد کی بیٹنگ کو تباہ کر دیا۔ ان چاروں باؤلرز نے مجموعی طور پر 14 اوورز میں صرف 82 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کیں۔ حیدرآباد کی اننگز کا صرف 14.5 اوورز تک محدود رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ گجرات کی باؤلنگ کتنی غیر معمولی تھی۔
سن رائزرز حیدرآباد کی باؤلنگ حکمت عملی: ایک مثبت پہلو
شکست کے باوجود، حیدرآباد کی باؤلنگ کارکردگی کو ماہرین نے سراہا ہے۔ سابق کرکٹر سنجے بانگر نے حیدرآباد کے باؤلنگ پلانز کو ‘غیر معمولی’ قرار دیا۔ پیٹ کمنز اور پرافل ہنگے نے اپنے سات اوورز میں چھ رنز فی اوور سے بھی کم کی شرح سے رنز دیے۔ پرافل ہنگے اور ثاقب حسین نے دو دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ایشان ملنگا اگرچہ تھوڑے مہنگے ثابت ہوئے، لیکن مجموعی طور پر گجرات کو 168 رنز پر روکنا ایک ٹھوس کوشش تھی۔
سنجے بانگر نے حیدرآباد کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا: ‘جس طرح انہوں نے سائی سدھرسن کو باؤلنگ کی، خاص طور پر لیگ اسٹمپ لائن پر گیند بازی کرنا تاکہ انہیں آف سائیڈ پر کھیلنے کا موقع نہ ملے، وہ بہترین تھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ میں نے سدھرسن کو آف سائیڈ پر اتنے کم رنز بناتے دیکھا۔ اسی طرح نشانت سندھو کے خلاف فائن تھرڈ مین کا استعمال اور باؤنسر کی کوششیں بھی قابل دید تھیں۔’
کنڈیشنز کا استعمال اور فیلڈنگ سیٹ اپ
امباتی رائیڈو نے بھی حیدرآباد کی باؤلنگ کی تعریف کی اور نشاندہی کی کہ انہوں نے شروع میں سلو گیندوں کا استعمال نہیں کیا، جو عام طور پر اس طرح کی وکٹوں پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے ‘سیم اپ’ باؤلنگ کی جو کہ احمد آباد کی سطح پر کافی مؤثر ثابت ہوئی۔ جب گیند تھوڑی پرانی ہوئی، تب انہوں نے اپنی رفتار بدلی۔ پیٹ کمنز کی کپتانی پر تبصرہ کرتے ہوئے بانگر نے کہا کہ مڈ آن فیلڈر کو پیچھے لے جانا ایک ایسی چال تھی جو عام طور پر تیز باؤلرز کے خلاف نہیں دیکھی جاتی، لیکن کمنز نے حالات کے مطابق بہترین فیصلے کیے۔
پاور پلے کی ناکامی اور مستقبل کی امیدیں
حیدرآباد کی شکست کی سب سے بڑی وجہ پاور پلے میں چار اہم وکٹیں کھونا تھی، جن میں ٹریوس ہیڈ، ابھیشیک شرما اور ایشان کشن شامل تھے۔ پرافل ہنگے نے گجرات کے دو بڑے کھلاڑیوں، شبمن گل (5 رنز) اور جوس بٹلر (7 رنز) کو جلد آؤٹ کر کے حیدرآباد کو بہترین آغاز فراہم کیا تھا، لیکن بیٹنگ یونٹ اس کا فائدہ نہ اٹھا سکا۔
ڈینیئل وٹوری نے بیٹنگ یونٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا: ‘اگر وہ 200 رنز بنا لیتے، تو ہمیں معلوم تھا کہ یہ ایک مشکل ہدف ہوگا۔ لیکن 169 رنز کے ہدف کے ساتھ، ہمیں لگا کہ ہمارے پاس موقع ہے۔ میں اپنی بیٹنگ یونٹ کو موردِ الزام نہیں ٹھہراؤں گا کیونکہ وہ اس سال غیر معمولی رہے ہیں۔ آئی پی ایل میں ہر ٹیم کے ساتھ کبھی نہ کبھی ایسی عارضی ناکامیاں آتی ہیں، اور آج ہماری باری تھی۔ لیکن مجھے کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہم دوبارہ فارم میں واپس نہ آسکیں۔’
نتیجہ
سن رائزرز حیدرآباد کے لیے یہ میچ ایک سبق آموز تجربہ رہا ہے۔ اگرچہ 82 رنز کی شکست بڑی ہے، لیکن وٹوری کا اعتماد اور ٹیم کی باؤلنگ حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ٹیم اب بھی ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین دعویداروں میں سے ایک ہے۔ شائقین کو امید ہے کہ حیدرآباد اگلے میچ میں اپنی غلطیوں سے سیکھ کر میدان میں اترے گی اور اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گی۔
