Tamim Iqbal responds to “father’s blessing cricket board” criticism – بی سی بی کی نئی انتظامیہ
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے نئے سفر کا آغاز اور تمیم اقبال کی صدارت
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کے انتخابات کا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد ملک کے نامور اور تجربہ کار کرکٹر تمیم اقبال نے باضابطہ طور پر نئے صدر کی حیثیت سے چارج سنبھال لیا ہے۔ تاہم، اس نئی انتظامیہ کی تشکیل کے فوراً بعد ہی بنگلہ دیشی کرکٹ کے حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس بحث کی بنیادی وجہ بورڈ میں کچھ ایسے اراکین کی شمولیت ہے جن کا تعلق ملک کے بااثر اور سیاسی خاندانوں سے ہے۔ ان تقرریوں نے کرکٹ کے مبصرین اور شائقین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور بورڈ کی شفافیت پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تمیم اقبال، جو کہ بنگلہ دیشی کرکٹ کا ایک بہت بڑا نام ہیں، اب ایک کھلاڑی سے زیادہ ایک منتظم کی حیثیت سے کڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔
سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے خاندانوں کے اراکین کی موجودگی کی وجہ سے سوشل میڈیا اور کھیلوں کے حلقوں میں اس نئے سیٹ اپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ناقدین کی جانب سے اس نئی کمیٹی کو “فادرز بلیسنگ کرکٹ بورڈ” (یعنی باپ کے آشیرواد والا کرکٹ بورڈ) کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس سخت تنقید کے بعد، نئے صدر تمیم اقبال نے خاموشی توڑتے ہوئے اس معاملے پر اپنا تفصیلی موقف پیش کیا ہے۔ اس اہم موڑ پر، Tamim Iqbal responds to “father’s blessing cricket board” criticism کے تحت انہوں نے واضح کیا ہے کہ عوامی آراء کو تبدیل کرنا ان کا اولین مقصد ہے اور وہ اس کے لیے سخت محنت کرنے کو تیار ہیں۔
تنقید کی بنیادی وجوہات اور نئے اراکین کا پس منظر
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ میں منتخب ہونے والے کئی نئے اراکین کا تعلق بنگلہ دیش کی نمایاں سیاسی شخصیات سے ہے، جس کی وجہ سے یہ پورا معاملہ بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ ان اراکین میں درج ذیل شخصیات شامل ہیں:
- سعید ابراہیم احمد: یہ بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد کے صاحبزادے ہیں، جن کی شمولیت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
- اسرافیل خسرو: یہ وزیر خزانہ امیر خسرو محمود چوہدری کے فرزند ہیں، جن کا تعلق ایک مضبوط سیاسی پس منظر سے ہے۔
- مرزا یاسر عباس: یہ نامور مشیر مرزا عباس کے صاحبزادے ہیں، جو اب بورڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔
ان نوجوان اور سیاسی طور پر بااثر شخصیات کی بورڈ میں آمد نے بہت سے پرانے کرکٹ عہدیداروں اور شائقین کو حیران کر دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کرکٹ بورڈ جیسے پیشہ ورانہ ادارے میں سیاسی وابستگیوں کے بجائے میرٹ، تجربے اور کھیل کے گہرے فہم کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بورڈ کے نئے سیٹ اپ کی شفافیت اور خودمختاری پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں، اور اسے “فادرز بلیسنگ” کا نام دیا جا رہا ہے۔ شائقین کا کہنا ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ کھیل کی فطری ترقی کو روک سکتا ہے۔
تمیم اقبال کا ناقدین کو کرارا اور مدبرانہ جواب
بطور صدر چارج سنبھالنے کے بعد تمیم اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان تمام الزامات اور تنقید کا سامنا انتہائی سنجیدگی اور تدبر کے ساتھ کیا۔ انہوں نے “فادرز بلیسنگ” کے لیبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ مختلف قسم کے نام اور لیبل دینے کے لیے آزاد ہیں اور وہ کسی کو بولنے سے روک نہیں سکتے۔
تمیم اقبال کا کہنا تھا: “لوگ ہر طرح کے ٹیگز (نام) دیں گے۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہم مستقبل میں اسے ‘باپ کے آشیرواد’ (فادرز بلیسنگ) سے بدل کر ‘کرکٹ کے لیے آشیرواد’ (بلیسنگ فار کرکٹ) بنا سکتے ہیں یا نہیں۔ ہمارا اصل امتحان آنے والے وقت میں ہماری کارکردگی اور ہمارے فیصلے ہوں گے۔”
ان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ تنقید سے گھبرانے کے بجائے اپنے کام اور نتائج کے ذریعے ناقدین کے منہ بند کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بورڈ کے اراکین کا خاندانی یا سیاسی پس منظر جو بھی ہو، ان کی اصل پہچان ان کا کام اور کرکٹ کی ترقی کے لیے ان کی مخلصانہ خدمات ہونی چاہئیں۔ تمیم اقبال کی یہ سوچ ان کے قائدانہ صلاحیتوں کی عکاس ہے، جہاں وہ دباؤ میں بھی پرسکون رہنے کا فن جانتے ہیں۔
شفافیت، ایمانداری اور غلطیوں کی اصلاح کا عزم
تمیم اقبال نے مزید واضح کیا کہ نہ تو وہ خود اور نہ ہی بورڈ کا کوئی دوسرا رکن ایسا کوئی اقدام کرنا چاہتا ہے جس سے کسی قسم کا تنازعہ کھڑا ہو۔ ان کا مقصد بورڈ کے وقار کو برقرار رکھنا اور بنگلہ دیشی کرکٹ کو نئی بلندیوں پر لے جانا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کرکٹ بورڈ میں شفافیت کے بغیر شائقین کا اعتماد بحال کرنا ناممکن ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “میں یقینی طور پر ہماری طرف سے ایسا کچھ نہیں چاہتا جس سے کوئی تنازعہ پیدا ہو۔ ہم مکمل ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم سے غلطیاں بھی ہوں گی، کیونکہ غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں اور یہ ایک فطری عمل ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ان غلطیوں کو کتنی جلدی درست کرتے ہیں اور ان سے سیکھ کر آگے بڑھتے ہیں۔”
اس بیان سے تمیم اقبال کی عاجزی اور حقیقت پسندانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک نیا بورڈ چلاتے وقت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن ان کا عزم اور ایمانداری ان کی قیادت کا سب سے مضبوط پہلو ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ بورڈ کو ایک ایسی سمت میں لے جانا چاہتے ہیں جہاں غلطیوں کی گنجائش تو ہو لیکن ان کی اصلاح کا عمل فوری اور موثر ہو۔
بنگلہ دیش کرکٹ کا مستقبل اور نئی انتظامیہ کے چیلنجز
تمیم اقبال کی قیادت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے پاس اب اپنی ساکھ کو ثابت کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اگرچہ سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات بورڈ کے آغاز کو دھندلا رہے ہیں، لیکن اگر یہ نئی کمیٹی کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، ڈومیسٹک کرکٹ کو فروغ دینے اور ٹیم کی بین الاقوامی سطح پر کارکردگی میں تسلسل لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو ناقدین کے تمام الزامات خود بخود دم توڑ دیں گے۔
اب تمام نظریں تمیم اقبال اور ان کی ٹیم پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ کس طرح ان چیلنجز سے نمٹتے ہیں اور بنگلہ دیشی کرکٹ کو ایک مثبت اور تعمیری سمت میں گامزن کرتے ہیں۔ کیا یہ واقعی ‘کرکٹ کے لیے ایک آشیرواد’ ثابت ہوگا؟ اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا، لیکن تمیم اقبال کے عزم نے شائقین کے دلوں میں ایک نئی امید ضرور پیدا کر دی ہے۔
