Latest Cricket News

Vaibhav Sooryavanshi India Test call-up: 15-year-old opens up to Sunil Gavaskar: ایک آئی پی ایل اسٹار کا ٹیسٹ کرکٹ کا خواب

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

آئی پی ایل 2026 میں اپنی تباہ کن بلے بازی سے دنیا بھر میں ایک شناخت بنانے والے 15 سالہ ویبھو سوریاونشی، جنہیں دنیا کے سب سے خطرناک ٹی 20 بلے بازوں میں سے ایک مانا جاتا ہے، نے اب ایک بہت بڑے ہدف پر اپنی نظریں جما رکھی ہیں۔ راجستھان رائلز کے اس نوجوان ستارے نے بھلے ہی آئی پی ایل کے اس سیزن میں اپنی دھاک جمائی ہو اور کئی بلے بازی کے ریکارڈز توڑے ہوں، لیکن ان کا حتمی مقصد ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ہے۔ یہ حقیقت ان کے حالیہ انٹرویوز اور گفتگو سے واضح ہوتی ہے، جہاں انہوں نے اپنی گہری خواہشات کا اظہار کیا۔ حال ہی میں، ایک خصوصی گفتگو کے دوران، جس میں کرکٹ کے لیجنڈ سنیل گواسکر بھی شامل تھے، بائیں ہاتھ کے اس باصلاحیت بلے باز نے ریڈ بال کرکٹ کے لیے اپنی تیاریوں اور ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بننے کی اپنی خواہش کے بارے میں کھل کر بات کی۔ یہ بات چیت نوجوان کھلاڑی کے وسیع النظر وژن اور کرکٹ کے قدیم ترین فارمیٹ کے تئیں ان کی عقیدت کو ظاہر کرتی ہے۔

آئی پی ایل 2026 میں ویبھو سوریاونشی کی بے مثال کارکردگی اور ریکارڈز

ویبھو سوریاونشی بلاشبہ آئی پی ایل 2026 کے سب سے بڑے ستارے تھے، جنہوں نے اپنی بے مثال صلاحیتوں اور جارحانہ انداز سے سب کو حیران کر دیا۔ راجستھان رائلز کے اوپنر نے ٹورنامنٹ کا اختتام سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی کے طور پر کیا، انہوں نے 237.31 کے حیران کن اسٹرائیک ریٹ اور 48.50 کی اوسط سے 776 رنز کا ایک متاثر کن مجموعہ اکٹھا کیا۔ ان کی یہ غیر معمولی کارکردگی صرف رنز کے ڈھیر تک محدود نہیں تھی، بلکہ انہوں نے اپنی ناقابل یقین مستقل مزاجی اور ہر گیند کو چھکے میں تبدیل کرنے کی بے خوف صلاحیت سے حریف گیند بازوں کو بے بس کر دیا۔ ان کی اس شاندار کارکردگی کے اعتراف میں، انہیں اورنج کیپ کے ساتھ ساتھ کئی دیگر بڑے ایوارڈز بھی دلوائے گئے۔ یہ نوجوان کھلاڑی سیزن کا سب سے قیمتی کھلاڑی (Most Valuable Player)، ابھرتا ہوا کھلاڑی (Emerging Player of the Season)، سیزن کا سپر اسٹرائیکر (Super Striker of the Season) اور سپر سکسز ایوارڈ (Super Sixes Award) بھی لے اڑا۔ یہ اعزازات ان کے آل راؤنڈ اثر اور کھیل پر ان کے غلبے کی گواہی دیتے ہیں۔

ان کی مہم کی سب سے بڑی خاص بات 72 چھکوں کا ریکارڈ توڑنا تھا، جو ٹی 20 کرکٹ میں ایک نایاب کارنامہ ہے۔ اس میں سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف 36 گیندوں پر ایک شاندار سنچری بھی شامل تھی، جو ان کی تیز بلے بازی کی عمدہ مثال ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے راجستھان رائلز کے لیے سیزن کے تین اہم ترین میچوں میں بالترتیب 93، 97 اور 96 رنز کی اہم اننگز کھیلیں۔ آئی پی ایل 2026 نے انہیں بھارتی کرکٹ میں سب سے روشن نوجوان ٹیلنٹ میں سے ایک کے طور پر مضبوطی سے قائم کیا اور قومی ٹیم میں ان کی شمولیت کے مطالبات کو مزید تقویت دی۔ ان کی کارکردگی نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ بڑے میچوں کے کھلاڑی ہیں جو دباؤ میں بھی اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

ریڈ بال کرکٹ کی طرف رجحان اور کرکٹ کے لیجنڈز سے بات چیت

اپنے ایوارڈز وصول کرنے کے بعد، سوریاونشی سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا شائقین انہیں آنے والے مہینوں میں کرکٹ کے ایک مختلف انداز میں کھیلتے ہوئے دیکھیں گے۔ نوجوان کھلاڑی نے اپنے جواب میں اشارہ دیا کہ ان کی آنے والی اسائنمنٹس ان کی بلے بازی کا ایک اور پہلو دکھا سکتی ہیں جو شاید اب تک منظر عام پر نہیں آیا۔

سوریاونشی نے پختہ عزم کے ساتھ کہا، “جی ہاں، مجھے گراؤنڈ پر کھیلنا ہوگا کیونکہ اگلی اسائنمنٹ ایک روزہ فارمیٹ میں ہے۔ میں نے ریڈ بال کے ساتھ بہت پریکٹس کی ہے، لیکن کسی نے مجھے ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، لیکن وہ جلد ہی دیکھیں گے۔” اس بیان سے ان کی ٹیسٹ کرکٹ کی طرف سنجیدہ وابستگی ظاہر ہوتی ہے، جس کے بارے میں انہوں نے سنیل گواسکر اور ہربھجن سنگھ جیسے قدآور کرکٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے مزید تفصیلات شیئر کیں۔ یہ گفتگو ان کے کیریئر کے اگلے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے اور ان کے اندر چھپی ہوئی ٹیسٹ کرکٹر کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ نہ صرف ان کی اپنی ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔

کرکٹ کے لیجنڈز کی حمایت اور رہنمائی

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ویبھو سوریاونشی کو حال ہی میں ‘کرکٹ کے خدا’ کہے جانے والے سچن ٹنڈولکر اور تیز گیند باز ڈیل اسٹین جیسے عالمی شہرت یافتہ کرکٹرز کی حمایت حاصل ہوئی ہے، جنہوں نے انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں انڈیا کی نمائندگی کے لیے خود کو تیار کرنے کی ترغیب دی۔ یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا حوصلہ ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ کرکٹ کی دنیا میں ان کے ٹیلنٹ کو کتنی اہمیت دی جا رہی ہے۔ جب ایسے لیجنڈز ایک نوجوان کھلاڑی کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں، تو یہ ان کے اعتماد میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے۔ ان لیجنڈز کی توثیق اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ سوریاونشی صرف ٹی 20 فارمیٹ کے دھماکہ خیز کھلاڑی نہیں، بلکہ ان میں کرکٹ کے ہر فارمیٹ میں، خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ کی طویل اننگز کھیلنے میں، بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ رہنمائی انہیں صحیح راستے پر گامزن رہنے اور اپنی تکنیک کو مزید بہتر بنانے میں مدد دے گی۔

ٹی 20 کی بلے بازی کے تصور سے ہٹ کر: حقیقی صلاحیت کی پہچان

اپنے مستقبل کے اہداف کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے، سوریاونشی نے واضح کیا کہ ان کا جارحانہ بلے بازی کا انداز بڑی حد تک ٹی 20 فارمیٹ کے مخصوص مطالبات سے متاثر ہے اور انہیں ایک کرکٹر کے طور پر صرف اس ایک پہلو سے بیان نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے وضاحت کی، “لوگ سمجھتے ہیں کہ مجھے ہر گیند کو ہٹ کرنا پسند ہے، لیکن یہ ٹی 20 فارمیٹ ہے، اور کوچز مجھے کھل کر کھیلنے کی آزادی دیتے ہیں۔ اور میں گیند کو صرف اس لیے ہٹ کرتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میں انہیں ہٹ کر سکتا ہوں، اور یہ کوئی مجبوری نہیں ہے۔” یہ بیان اس بات کو واضح کرتا ہے کہ وہ حالات کے مطابق اپنی بلے بازی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور صرف ایک مخصوص انداز تک محدود نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر فارمیٹ کی اپنی الگ حکمت عملی اور تکنیک ہوتی ہے، اور وہ ان تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کی یہ سوچ ان کی ذہنی پختگی اور کھیل کی گہری سمجھ کی عکاسی کرتی ہے، جو انہیں ایک مکمل بلے باز بننے میں مدد دے گی۔

والد کا اثر، ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت اور رنجی ٹرافی کا تجربہ

نوجوان بلے باز نے پھر انکشاف کیا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں انڈیا کی نمائندگی کرنا ان کی سب سے بڑی خواہشات میں سے ایک ہے۔ یہ خواہش محض ایک خواب نہیں بلکہ ان کے خاندانی پس منظر اور کرکٹ کی روایتی اقدار سے گہری جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، “میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں، ظاہر ہے، کیونکہ میرے والد نے بھی مجھے سکھایا ہے کہ یہ حتمی فارمیٹ ہے، اور میں نے اسے کھیلا بھی ہے۔ حالانکہ میں نے ابھی زیادہ کھیل نہیں کھیلے ہیں۔ میں نے رنجی ٹرافی کرکٹ کھیلی لیکن مجھے زیادہ مواقع نہیں ملے، اور یہ میرے لیے مشکل تھا۔ لیکن میں اپنے کھیل کے اس پہلو پر کام کرتا رہوں گا۔” یہ بیان ان کی ٹیسٹ کرکٹ کے تئیں گہری لگن اور اپنے والد کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے، جنہوں نے انہیں کرکٹ کے سب سے مشکل اور صبر آزما فارمیٹ کی اہمیت سکھائی۔ رنجی ٹرافی میں محدود مواقع ملنے کے باوجود، ان کا عزم کم نہیں ہوا ہے، بلکہ وہ اس چیلنج کو قبول کر کے اپنے کھیل کو مزید بہتر بنانے پر مائل ہیں۔

پہلے درجے کی کرکٹ کے اعدادوشمار، عزم اور مستقبل کا لائحہ عمل

قابل غور بات یہ ہے کہ ویبھو سوریاونشی کے پہلے درجے کی کرکٹ کے اعدادوشمار ابھی بھی کافی معمولی ہیں۔ انہوں نے اب تک آٹھ پہلے درجے کے میچ کھیلے ہیں اور 12 اننگز میں 17.25 کی اوسط سے 207 رنز بنائے ہیں۔ پہلے درجے کی کرکٹ میں ان کا سب سے زیادہ سکور 93 ہے، اور ان کے نام صرف ایک نصف سنچری ہے۔ یہ اعدادوشمار ان کی ٹی 20 کی کامیابیوں کے برعکس دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ ان کے لیے ایک سیکھنے کا عمل ہے۔ تاہم، ان کے عزم اور سخت محنت کو دیکھتے ہوئے، یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ جلد ہی ان اعدادوشمار کو بہتر بنائیں گے اور ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔ ان کی حالیہ کامیابیوں اور بڑے کرکٹرز سے بات چیت نے انہیں حوصلہ بخشا ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں پر قابو پا کر ایک مکمل بلے باز بن سکیں۔ وہ مستقبل میں بھارتی کرکٹ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں، اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو تمام فارمیٹس میں نکھارتے رہیں۔

ویبھو سوریاونشی نے ثابت کر دیا ہے کہ عمر صرف ایک نمبر ہے، اور ٹیلنٹ، عزم اور سخت محنت سے کوئی بھی ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ ان کی کہانی نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک تحریک ہے جو اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور یہ پیغام دیتی ہے کہ سچی لگن اور مستقل مزاجی سے ہی عظیم کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔