Report

Villiers delivers with bat and ball in comfortable Durham victory

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

ڈرہم کی شاندار فتح اور میڈی ولیئرز کا جادو

وائٹلٹی بلاسٹ ویمنز کرکٹ ٹورنامنٹ میں ڈرہم کی ٹیم نے ٹرینٹ برج کے میدان پر دی بلیز کو سات وکٹوں سے شکست دے کر اپنی کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔ اس میچ میں انگلینڈ کی انٹرنیشنل کھلاڑی میڈی ولیئرز مرکزی کردار بن کر ابھریں، کیونکہ Villiers delivers with bat and ball in comfortable Durham victory کی بدولت ٹیم نے سیزن کی اپنی تیسری فتح اپنے نام کی۔

میچ کا خلاصہ

دی بلیز کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 153 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جس کے جواب میں ڈرہم نے ہدف 19.1 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ میڈی ولیئرز نے گیند کے ساتھ 21 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں اور بلے سے 47 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی آل راؤنڈ کارکردگی کا شاندار مظاہرہ کیا۔

دی بلیز کی اننگز: جارحانہ آغاز اور پھر جمود

دی بلیز نے ٹاس ہارنے کے بعد بیٹنگ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا تھا۔ ماری کیلی اور ٹیمی بیومونٹ نے ابتدائی اوورز میں تیزی سے رنز بٹورے۔ تاہم، پاور پلے کے اختتام تک دونوں اوپنرز پویلین لوٹ گئیں۔ جورجیا ایلس نے اپنی 35 ویں سالگرہ پر 31 رنز بنا کر ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی، لیکن ڈرہم کے باؤلرز نے تسلسل کے ساتھ وکٹیں لے کر دباؤ برقرار رکھا۔ ہیلی گراہم نے بھی شاندار باؤلنگ کی اور اہم وکٹیں حاصل کیں۔

ڈرہم کا تعاقب اور حکمت عملی

ہدف کے تعاقب میں ڈرہم کے لیے ہولی آرمیٹیج اور میڈی ولیئرز نے 83 رنز کی اوپننگ شراکت داری قائم کر کے جیت کی بنیاد رکھی۔ ولیئرز اپنی نصف سنچری کے قریب تھیں کہ ٹیمی بیومونٹ کے شاندار کیچ نے انہیں آؤٹ کر دیا، لیکن تب تک ڈرہم میچ پر مکمل گرفت حاصل کر چکی تھی۔

بیس ہیتھ کی برق رفتار اننگز

ولیئرز کے آؤٹ ہونے کے بعد بیس ہیتھ نے میدان میں قدم رکھا اور محض 18 گیندوں پر 36 رنز بنا کر کھیل کا نقشہ بدل دیا۔ ہیتھ کی اننگز میں پانچ چوکے اور ایک بلند و بالا چھکا شامل تھا۔ کپتان ہولی آرمیٹیج نے ایک ذمہ دارانہ اننگز کھیلی اور 50 رنز پر ناقابل شکست رہیں۔

نتیجہ اور اہمیت

یہ ڈرہم کی چار میچوں میں تیسری جیت ہے، جس نے پوائنٹس ٹیبل پر ان کی پوزیشن کو مستحکم کر دیا ہے۔ دوسری جانب دی بلیز کے لیے یہ سیزن کی پہلی شکست تھی۔ ولیئرز کی یہ کارکردگی نہ صرف ٹیم کے لیے اہم ہے بلکہ ویمنز کرکٹ میں ان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ ڈرہم نے ثابت کیا کہ وہ اس ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک ہے۔

آخری اوور میں جیت کے لیے محض دو رنز درکار تھے، جسے ہیلی گراہم نے ایک شاندار چوکے کے ساتھ مکمل کر کے ڈرہم کی جیت پر مہر ثبت کر دی۔ ٹرینٹ برج پر ہونے والا یہ مقابلہ شائقین کے لیے ایک یادگار میچ ثابت ہوا، جہاں ڈرہم نے ہر شعبے میں حریف ٹیم پر برتری حاصل کی۔