Cricket News

وراٹ کوہلی کا آئی پی ایل کی ‘کنٹینٹ فرسٹ’ کوریج پر احتجاج: پرائیویسی کا مطالبہ

Shanti Mukherjee · · 1 min read
Share

وراٹ کوہلی کا دو ٹوک موقف: ‘اب بہت ہو چکا’

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے بڑھتے ہوئے تجارتی اثر و رسوخ اور فرنچائزز کی جانب سے ڈیجیٹل مواد کی دوڑ نے کھلاڑیوں کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز بلے باز وراٹ کوہلی، جو اپنی جارحانہ بیٹنگ اور بہترین فٹنس کے لیے جانے جاتے ہیں، اب آئی پی ایل کی ‘کنٹینٹ فرسٹ’ کوریج سے سخت نالاں نظر آتے ہیں۔ کوہلی کا ماننا ہے کہ فرنچائزز کی ڈیجیٹل ٹیمیں ہر وقت کھلاڑیوں کا پیچھا کرتی رہتی ہیں، جس سے نہ صرف ان کی نجی زندگی بلکہ کھیل کی تیاری بھی متاثر ہو رہی ہے۔

پرائیویسی کی تلاش اور لندن منتقلی

وراٹ کوہلی بھارت کی ان چند شخصیات میں سے ایک ہیں جنہیں میڈیا اور شائقین کی بے پناہ توجہ حاصل رہتی ہے۔ بالی ووڈ اسٹار انوشکا شرما سے شادی کے بعد وہ پاپرازیوں کے پسندیدہ ترین ہدف بن چکے ہیں۔ اپنی نجی زندگی کو کیمروں کی نظروں سے بچانے کے لیے کوہلی نے اب مستقل طور پر لندن میں سکونت اختیار کر لی ہے۔ وہ اب صرف بین الاقوامی میچوں اور آئی پی ایل کھیلنے کے لیے بھارت کا رخ کرتے ہیں۔ کوہلی نے آر سی بی پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘میں اس دباؤ سے محبت کرتا ہوں جو کھیل کے ساتھ آتا ہے، لیکن اس کے علاوہ کسی بھی قسم کا دباؤ مجھے قبول نہیں ہے۔’

ڈیجیٹل مواد اور کھلاڑیوں کی تیاری میں خلل

کوہلی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سوشل میڈیا اور شائقین کی مصروفیت آج کے دور میں اہم ہے، لیکن اس عمل کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس رجحان پر تشویش ظاہر کی جہاں پریکٹس سیشنز کے دوران بھی کھلاڑیوں کو تنہائی میسر نہیں آتی۔ کوہلی کے مطابق، ‘جب آپ پریکٹس کے لیے میدان میں اترتے ہیں تو چھ کیمرے آپ کا پیچھا کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک بالکل بھی آرام دہ احساس نہیں ہے۔’

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب ہر چیز فلمائی جا رہی ہو تو آپ فطری طور پر کام نہیں کر سکتے۔ وراٹ کا کہنا تھا، ‘آپ کو اپنے کھیل پر کام کرنے کے لیے آزادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہر لمحہ ریکارڈ ہو رہا ہو تو نئی چیزیں آزمانا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ آپ کو ڈر ہوتا ہے کہ آپ کے پریکٹس کرنے کے انداز پر بحث شروع ہو جائے گی۔ مجھے میری کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ میں میچ کی تیاری کیسے کرتا ہوں۔ پس پردہ میں کیا کر رہا ہوں، اس پر کسی کو فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے۔’

کین ولیمسن اور ‘چمپاک’ کا واقعہ

وراٹ کوہلی نے ایک دلچسپ مگر پریشان کن واقعہ بھی شیئر کیا جب وہ اپنے دوست کین ولیمسن سے سنجیدہ گفتگو کر رہے تھے۔ کین ولیمسن، جو اس وقت آئی پی ایل کے 19ویں سیزن میں لکھنؤ سپر جائنٹس کی نمائندگی کر رہے ہیں، کوہلی کے قریبی دوست سمجھے جاتے ہیں۔ وراٹ نے بتایا، ‘میں کین سے ایک سنجیدہ موضوع پر بات کر رہا تھا کہ اچانک میں نے ایک روبوٹک کتے (چمپاک) کو مداخلت کرتے دیکھا۔ میں نے اسے آپریٹ کرنے والے شخص سے کہا کہ اسے یہاں سے لے جاؤ۔ کیا میں کین سے کیمرے کے بغیر بات بھی نہیں کر سکتا؟’ ان کا کہنا تھا کہ ڈریسنگ روم سے لے کر میدان تک ہر لمحہ ریکارڈ ہونا ایک نیا مسئلہ بن چکا ہے۔

وراٹ کوہلی کے ریکارڈز اور موجودہ فارم

کیمروں کی اس یلغار کے باوجود، وراٹ کوہلی کی میدان میں کارکردگی متاثر نہیں ہوئی ہے۔ وہ رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کو دوسرا مسلسل ٹائٹل جتوانے کے لیے پرعزم ہیں۔ حالیہ سیزن میں ان کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • وراٹ کوہلی نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف شاندار سنچری اسکور کی۔
  • ٹورنامنٹ کی تاریخ میں ان کی سنچریوں کی تعداد 9 ہو چکی ہے۔
  • انہوں نے مختصر ترین فارمیٹ (T20) میں 14,000 رنز مکمل کر لیے ہیں۔
  • موجودہ سیزن میں وہ 400 سے زائد رنز بنا چکے ہیں اور اورنج کیپ کی دوڑ میں سر فہرست ہیں۔

آر سی بی کی پوزیشن اور مستقبل

رائل چیلنجرز بنگلورو کی ٹیم راجت پاٹیدار کی قیادت میں بہترین کھیل پیش کر رہی ہے۔ ٹیم نے اب تک آٹھ میچ جیت کر پلے آف میں جگہ بنالی ہے۔ اگر ٹیم اپنے بقیہ دو میچ بھی جیت لیتی ہے، تو وہ ٹاپ ٹو فرنچائزز میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ کوہلی نے حکام اور ڈیجیٹل ٹیموں پر زور دیا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے آرام اور ان کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے واضح قواعد و ضوابط مرتب کریں کیونکہ اب یہ مداخلت برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

Shanti Mukherjee
Shanti Mukherjee

Shanti Mukherjee is a pioneering Indian sports journalist specializing in cricket. She is renowned for her sharp analysis and breaking gender barriers in the male-dominated field of sports media.