Latest Cricket News

ویرات کوہلی کا بھارتی ہاکی ٹیم کی فٹنس پر دلچسپ تبصرہ: کرکٹرز کو پیچھے چھوڑ دیا؟

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

ویرات کوہلی کا بھارتی ہاکی ٹیم کی فٹنس پر دلچسپ تبصرہ: کرکٹرز کو پیچھے چھوڑ دیا؟

حال ہی میں رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) انوویشن لیب انڈین سپورٹس سمٹ کے تیسرے ایڈیشن میں، بھارتی کرکٹ کے معروف بلے باز اور عالمی فٹنس آئیکن، ویرات کوہلی نے ایک انتہائی دلچسپ اور اہم موضوع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بھارتی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی غیر معمولی فٹنس کی سطح کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہاکی کے کھلاڑی جسمانی طور پر کرکٹ کے کھلاڑیوں سے کہیں زیادہ مضبوط اور فٹ ہیں۔ یہ تبصرہ نہ صرف کھیل کے حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا بلکہ اس نے فٹنس کے معیار اور مختلف کھیلوں میں اس کی اہمیت پر نئے سرے سے سوچنے کی گنجائش بھی فراہم کی۔

فٹنس: ایک بنیادی ضرورت، نہ کہ غیر معمولی کارنامہ

ویرات کوہلی، جو خود دنیا بھر میں فٹنس کے ایک بڑے علمبردار کے طور پر جانے جاتے ہیں، نے اس بات پر زور دیا کہ فٹنس کسی بھی کھیل کا ایک لازمی اور بنیادی حصہ ہونا چاہیے، نہ کہ کوئی ایسی چیز جسے غیر معمولی سمجھا جائے۔ ان کے بقول، کھیل کے تقاضے ہی یہ ہیں کہ کھلاڑی ہر معیار پر پورا اترنے والا فٹ ہو۔ کوہلی کا ماننا ہے کہ فٹنس کو ایک ایسے معیار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو ہر کھلاڑی کو اپنے کھیل میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پورا کرنا چاہیے۔

کوہلی نے ایک بیان میں کہا، "میں جانتا ہوں کہ لوگ بعض اوقات فٹنس کو کسی غیر معمولی چیز کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن میرے لیے یہ صرف وہی ہے جو نوکری کا تقاضا ہے۔ یہ ایک معمول ہونا چاہیے، نہ کہ کوئی خاص چیز جس کا جشن منایا جائے۔ ہمارے ملک میں کرکٹ اتنی زیادہ توجہ کا مرکز ہے کہ ہم اکثر دوسرے کھیلوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔" ان کا یہ بیان اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی کھیلوں میں فٹنس کو ابھی بھی وہ اہمیت حاصل نہیں ہو سکی جو اسے دنیا کے ترقی یافتہ کھیلوں میں حاصل ہے۔

کرکٹ بمقابلہ ہاکی: فٹنس کا حیران کن موازنہ

ویرات کوہلی نے اپنی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے ایک حیران کن موازنہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ہاکی کھلاڑیوں کی فٹنس کرکٹرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ یہ تبصرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مختلف کھیلوں کے درمیان جسمانی تقاضے کس قدر مختلف ہو سکتے ہیں اور کھلاڑیوں کو ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کس قدر محنت کرنی پڑتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "اگر میں بالکل سچ کہوں تو ہم بھارتی ہاکی کھلاڑی کی فٹنس کے 15 فیصد بھی نہیں ہیں۔ اگر ہاکی کے کھلاڑی ہماری ٹریننگ سیشنز دیکھیں تو شاید وہ ہنسیں گے کیونکہ ان کا کھیل بہت زیادہ جسمانیت کا متقاضی ہے۔" یہ بیان کرکٹ اور ہاکی کے درمیان جسمانی تقاضوں کے فرق کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ہاکی ایک تیز رفتار اور مستقل حرکت والا کھیل ہے جو کھلاڑیوں سے مسلسل دوڑنے، تیزی سے سمت بدلنے اور شدید جسمانی دباؤ برداشت کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ موازنہ کھیل کے مداحوں اور ماہرین دونوں کے لیے سوچنے کا نیا پہلو پیش کرتا ہے۔

ہارمن پریت سنگھ کی بصیرت: ویرات کی یو-یو ٹیسٹ پر حیرانی

اس موقع پر بھارتی مینز ہاکی ٹیم کے کپتان ہرمن پریت سنگھ نے ویرات کوہلی کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو کو یاد کیا۔ ہرمن پریت نے بتایا کہ ویرات ہاکی کے بارے میں، خاص طور پر اس کھیل کے فٹنس معیارات کے بارے میں بہت متجسس تھے۔ ہاکی ایک تیز رفتار کھیل ہے اور اس کے کھلاڑیوں کو اعلیٰ ترین سطح پر فٹ ہونا ضروری ہے۔ یہ کھیل مسلسل حرکت، تیزی سے ردعمل اور مضبوط برداشت کا مطالبہ کرتا ہے، جو اسے دنیا کے سب سے زیادہ جسمانی طور پر چیلنج کرنے والے کھیلوں میں سے ایک بناتا ہے۔

ہرمن پریت سنگھ نے کہا، "ہماری فٹنس کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے ایک ایونٹ میں ہماری بہت اچھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ہاکی کتنا تیز کھیل ہے اور ہمارے فٹنس معیارات کے بارے میں جاننے کے لیے متجسس تھے۔ ہم نے یو-یو ٹیسٹ کے بارے میں بات کی، اور جب میں نے انہیں بتایا کہ ہمارے گول کیپرز بھی 20 سے زیادہ سکور کرتے ہیں، تو وہ واقعی حیران رہ گئے۔" یہ انکشاف ویرات کوہلی کی اس سوچ کی تائید کرتا ہے کہ ہاکی کے کھلاڑیوں کی فٹنس غیر معمولی ہوتی ہے۔

ہاکی کمیونٹی کا اظہارِ تشکر

ہرمن پریت نے مزید کہا کہ تربیت اور فٹنس کے حوالے سے ان کی زبردست گفتگو ہوئی۔ قومی ہاکی ٹیم کے کپتان نے بھارتی کرکٹ لیجنڈ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہاکی کے کھیل کی فطرت کو تسلیم کیا۔ یہ پہچان ہاکی کمیونٹی کے لیے بہت معنی رکھتی ہے کیونکہ یہ ان کی محنت اور قربانیوں کو نمایاں کرتی ہے۔

ہرمن پریت نے مزید کہا، "ہماری تربیت اور فٹنس کے بارے میں ایک شاندار بحث ہوئی اور تجربات کا تبادلہ ہوا۔ میں شکر گزار ہوں کہ ویرات کوہلی جیسے شخص نے ہاکی کے کھلاڑیوں کے فٹنس معیارات کی طرف توجہ دلائی کیونکہ ہمارا کھیل دنیا کے تیز ترین اور سب سے زیادہ جسمانی طور پر مانگنے والے کھیلوں میں سے ایک ہے۔ اس طرح کی پہچان ہاکی کمیونٹی کے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔"

منپریت سنگھ کا نقطہ نظر: ہاکی کی رفتار اور برداشت

تجربہ کار بھارتی ہاکی مڈفیلڈر منپریت سنگھ نے بھی ہرمن پریت کے الفاظ کی تائید کی۔ منپریت نے ہاکی کو رفتار، برداشت، اور مسلسل دوڑنے کا مرکب قرار دیا۔ ان کے بقول، کھلاڑیوں کو ہمیشہ اپنی فٹنس کو اعلیٰ سطح پر یقینی بنانا ہوتا ہے۔ ہاکی میں ہر لمحہ اہم ہوتا ہے، اور کھلاڑیوں کو کھیل کے ہر شعبے میں فعال رہنا پڑتا ہے۔

منپریت سنگھ نے کہا، "آج کی ہاکی ناقابل یقین حد تک تیز ہے۔ گیند سیکنڈوں میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ جاتی ہے، اور کھلاڑی مسلسل حرکت میں رہتے ہیں، دباؤ ڈالتے ہیں، اور پوزیشن تبدیل کرتے ہیں۔ کھیل کو اعلیٰ سطح کی فٹنس کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ہمارا کھیل رفتار، برداشت، اور مسلسل دوڑنے پر مبنی ہے۔" ان کے تبصرے ہاکی کے جسمانی تقاضوں کی گہرائی کو بیان کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ کیوں اس کھیل میں اعلیٰ فٹنس ایک لازمی شرط ہے۔

نتیجہ: کھیلوں میں فٹنس کی اہمیت کا ایک نیا مکالمہ

ویرات کوہلی کے یہ تبصرے نہ صرف ہاکی کے کھلاڑیوں کی محنت اور لگن کو سراہتے ہیں بلکہ یہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ہر کھیل کی اپنی منفرد جسمانی ضروریات ہوتی ہیں۔ ان کے اس بیان نے کھیل کے شائقین اور کھلاڑیوں دونوں کے لیے فٹنس کی اہمیت اور مختلف کھیلوں کے درمیان تقابلی پہلوؤں پر غور کرنے کا ایک نیا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ بحث شاید مستقبل میں بھارتی کھیلوں میں فٹنس کے معیارات کو مزید بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو، اور دیگر کھیلوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرے۔ یہ ایک صحت مند مباحثے کا آغاز ہے جو بھارتی کھیلوں کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے۔