Bangladesh Cricket

زمبابوے کرکٹ کا حیرت انگیز ریکارڈ: 50 اوورز میں 822 رنز اور 794 رنز کی تاریخی جیت

Shanti Mukherjee · · 1 min read
Share

کرکٹ کی تاریخ کا ناقابل یقین اسکور کارڈ: جب ویڈیو گیم حقیقت بن گئی

کرکٹ کے میدان سے اکثر ایسی خبریں آتی ہیں جو شائقین کو حیران کر دیتی ہیں، لیکن زمبابوے سے آنے والی حالیہ خبر نے تمام پچھلے ریکارڈز اور تصورات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کچھ اسکور کارڈز ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ شاید یہ کسی ویڈیو گیم جیسے کہ ‘ای اے اسپورٹس کرکٹ 2007’ کا اسکرین شاٹ ہے جسے ‘ایزی موڈ’ پر کھیلا گیا ہو۔ لیکن یہ کوئی کھیل نہیں بلکہ حقیقت تھی، جہاں اسکورپینز کرکٹ کلب نے میتھین لائنز کے خلاف ایک ایسا مجموعہ کھڑا کیا جس کی مثال تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔

جدید کرکٹ میں جہاں 400 رنز کا ہدف پہاڑ جیسا لگتا ہے اور 500 رنز بنانا ایک خواب تصور کیا جاتا ہے، وہاں زمبابوے کے ایک مقامی کلب نے 50 اوورز میں 800 رنز کا ہندسہ عبور کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

Unreal Batting Carnage in Zimbabwe: 822 Runs Posted in 50 Overs Leaves Fans Speechless. (Credits: Zimbabwe Cricket)

بیٹنگ کی تباہ کاری: اسکورپینز کرکٹ کلب کا ریکارڈ ساز آغاز

اس تاریخی میچ کا آغاز تب ہوا جب اسکورپینز کرکٹ کلب کے کپتان پریز مکازا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ شاید اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں گراؤنڈ کے چاروں طرف چوکوں اور چھکوں کی ایسی برسات ہوگی کہ بولرز کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔

اوپننگ بلے باز ونگڈ متینڈے نے اپنی اننگز کا آغاز ہی جارحانہ انداز میں کیا۔ انہوں نے محض 75 گیندوں پر 203 رنز کی ناقابل یقین اننگز کھیلی۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 270.67 رہا، جس میں 23 چوکے اور 13 فلک شگاف چھکے شامل تھے۔ متینڈے کی اس بیٹنگ نے حریف ٹیم کے بولرز کا مورال مکمل طور پر گرا دیا، لیکن یہ تو صرف تباہی کی شروعات تھی۔

تاکونڈا مادمبو کی تاریخی ٹرپل سنچری

ایک طرف متینڈے رنز کے انبار لگا رہے تھے تو دوسری طرف تاکونڈا مادمبو نے کرکٹ کی تاریخ کی ایک ایسی اننگز کھیلی جسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔ مادمبو نے صرف 143 گیندوں پر 302 رنز بنائے۔ اس اننگز میں انہوں نے 50 مرتبہ گیند کو باؤنڈری سے باہر بھیجا جبکہ 7 چھکے بھی ان کی اننگز کا حصہ رہے۔

Credits: Zimbabwe Cricket

مادمبو نے کریز پر تقریباً 272 منٹ گزارے اور بالآخر ‘ریٹائرڈ آؤٹ’ ہو کر پویلین واپس لوٹے۔ ان کی اس اننگز نے ثابت کر دیا کہ اگر عزم پختہ ہو تو گراؤنڈ کی کوئی بھی باؤنڈری دور نہیں ہوتی۔ ان دونوں اوپنرز کے درمیان ہونے والی شراکت داری نے میچ کو پہلے ہی اوورز میں یکطرفہ بنا دیا تھا۔

مجموعی اسکور اور بولرز کی بے بسی

اوپنرز کے جانے کے بعد بھی رنز بننے کی رفتار کم نہ ہوئی۔ گیبریل جایا نے صرف 49 گیندوں پر ناقابل شکست 110 رنز بنائے، جبکہ ونسنٹ مویو نے 39 گیندوں پر 78 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی۔ اسکورپینز کرکٹ کلب کا ہر وہ بلے باز جو کریز پر آیا، اس نے 200 سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کی۔

Credits: Zimbabwe Cricket

جب 50 اوورز کا اختتام ہوا تو اسکور بورڈ پر 822/4 کا ہندسہ جگمگا رہا تھا۔ اسکورپینز کلب نے 16.44 کے اوسط رن ریٹ سے رنز بنائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے پوری اننگز کے دوران تقریباً ہر اوور میں تین باؤنڈریز اسکور کیں۔

میتھین لائنز کی ناکامی اور 794 رنز کی جیت

823 رنز کے تعاقب میں میتھین لائنز کی ٹیم نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو گئی۔ اتنے بڑے ہدف کا بوجھ ان کے بلے باز برداشت نہ کر سکے اور پوری ٹیم تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ میتھین لائنز محض 28 رنز پر 7 وکٹیں گنوا بیٹھی اور اس طرح اسکورپینز کرکٹ کلب نے 794 رنز کے بھاری مارجن سے فتح سمیٹی۔ یہ مارجن اتنا بڑا ہے کہ پروفیشنل کرکٹ میں اس کا تصور کرنا بھی ناممکن معلوم ہوتا ہے۔

عالمی ریکارڈز کے ساتھ موازنہ

اس اسکور کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے اگر ہم عالمی ریکارڈز پر نظر ڈالیں تو لسٹ اے کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ بھارتی ریاست بہار کے پاس ہے، جنہوں نے اروناچل پردیش کے خلاف وجے ہزارے ٹرافی میں 574/6 اسکور کیے تھے۔ انگلینڈ کی قومی ٹیم کا نیدرلینڈز کے خلاف 498/4 اور تمل ناڈو کا 506/2 کا اسکور بھی اس زمبابوے کے کلب میچ کے سامنے اب معمولی نظر آنے لگا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس میچ کا اسکور کارڈ وائرل ہو چکا ہے اور شائقین کرکٹ اسے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ‘بیٹنگ ڈومینیشن’ قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک مقامی لیگ کا میچ تھا، لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کرکٹ میں اب کچھ بھی ناممکن نہیں رہا۔

Shanti Mukherjee
Shanti Mukherjee

Shanti Mukherjee is a pioneering Indian sports journalist specializing in cricket. She is renowned for her sharp analysis and breaking gender barriers in the male-dominated field of sports media.