Latest Cricket News

بھارتی کرکٹ کا نیا ابھرتا ستارہ: موہیت شرما کی ویبھو سوریونشی کو قومی ٹیم میں آزمانے کی تجویز

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

کرکٹ کی دنیا کا نیا سنسن خیز نام: ویبھو سوریونشی

آئی پی ایل 2026 کے دوران راجستھان رائلز کے 15 سالہ بلے باز ویبھو سوریونشی نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ 14 سال کی عمر میں ڈیبیو کرنے والے اس نوجوان کھلاڑی نے جس تیزی سے خود کو منوایا ہے، اس نے کرکٹ ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا یہ مستقبل کا سب سے بڑا سٹار ہے؟

موہیت شرما کی حمایت

سابق بھارتی فاسٹ بولر موہیت شرما نے اس نوجوان کھلاڑی کی صلاحیتوں کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔ اسپورٹس بوم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے موہیت شرما نے اجیت اگرکر اور گوتم گمبھیر پر زور دیا کہ اگر ٹیم میں جگہ بنتی ہے تو ویبھو کو ضرور آزمایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ، ‘وہ آئی پی ایل جیسے مشکل ٹورنامنٹ میں بہترین کھلاڑیوں کے خلاف پرفارم کر رہا ہے، اس لیے اسے قومی سطح پر موقع ملنا چاہیے۔’

شاندار اعداد و شمار

ویبھو سوریونشی کی کارکردگی کے اعداد و شمار ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ آئی پی ایل 2026 کے 12 میچوں میں انہوں نے 486 رنز بنائے ہیں۔ ان کی اوسط 40.50 اور اسٹرائیک ریٹ حیران کن طور پر 234.78 رہا ہے۔ وہ اب تک اس ٹورنامنٹ میں دو نصف سنچریاں اور ایک شاندار سنچری بھی اسکور کر چکے ہیں۔

بھارتی ٹیم میں سخت مقابلہ

فی الحال بھارتی ٹیم میں اوپننگ سلاٹ کے لیے کافی مقابلہ ہے۔ ابھیشیک شرما، سنجو سیمسن، یشسوی جیسوال اور شبمن گل جیسے نام پہلے ہی قطار میں ہیں۔ تاہم، ویبھو کی عمر کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ اگلے 15 سے 20 سال تک بھارتی کرکٹ کی خدمت کر سکتے ہیں۔ موہیت شرما کا ماننا ہے کہ ویبھو جیسے کھلاڑیوں کے لیے تکنیک اور ٹائمنگ پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آنے والا سفر

ویبھو سوریونشی کو حال ہی میں سری لنکا میں ہونے والی انڈیا-اے کی سہ فریقی سیریز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ سیریز ان کے کیریئر میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ موہیت شرما نے ہنستے ہوئے کہا، ‘میں شکر گزار ہوں کہ میں ریٹائر ہو چکا ہوں، ورنہ مجھے بھی اس نوجوان کے ہاتھوں مار کھانی پڑتی۔’ ویبھو ابھی صرف 15 سال کے ہیں اور ان کا سیکھنے کا عمل جاری ہے، لیکن جس طرح سے وہ دنیا کے بہترین فاسٹ بولرز کا سامنا کر رہے ہیں، اس سے یہ واضح ہے کہ وہ ایک طویل سفر طے کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نتیجہ

اگرچہ سلیکٹرز کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا یہ وقت ویبھو کو ٹیم میں شامل کرنے کا ہے یا نہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا نام اب بھارتی کرکٹ کے افق پر چمک رہا ہے۔ کرکٹ شائقین کو امید ہے کہ یہ نوجوان کھلاڑی آنے والے وقتوں میں بھارتی ٹیم کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہوگا۔