Bangladesh Cricket

آسٹریلیا کے خلاف غیر معمولی اقدامات کی ضرورت نہیں، حبیبل بشار کا بیان

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

بنگلہ دیشی کرکٹ کا نیا سفر: آسٹریلیا کے چیلنج کے لیے تیاری

بنگلہ دیش کی ٹیسٹ ٹیم اس وقت اپنی تاریخ کے بہترین دور سے گزر رہی ہے۔ کھلاڑیوں کا ماننا ہے کہ مستقل مزاجی اور اعتماد کے لحاظ سے یہ بنگلہ دیش کی اب تک کی سب سے مضبوط ٹیسٹ سائیڈ ہے۔ تاہم، اب ٹیم کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج کھڑا ہے، اور وہ ہے آسٹریلیا کی سرزمین پر جا کر کرکٹ کھیلنا۔

آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی اہمیت

آسٹریلیا کے دورے پر کھیلی جانے والی دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے۔ اسی وجہ سے آسٹریلوی ٹیم بنگلہ دیش کو بالکل بھی ہلکے میں نہیں لے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کئی آسٹریلوی کھلاڑیوں نے دی ہنڈریڈ لیگ سے دستبرداری اختیار کر لی ہے اور کچھ نے محدود اوورز کی کرکٹ سے بریک لیا ہے تاکہ وہ مکمل توجہ بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز پر مرکوز رکھ سکیں۔

حبیبل بشار کا پرامید موقف

آسٹریلیا کی کنڈیشنز بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے لیے ہمیشہ ہی مشکل اور غیر مانوس رہی ہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے چیف سلیکٹر حبیبل بشار سمن کا کہنا ہے کہ اگر ٹیم وہاں وقت سے پہلے پہنچ کر کنڈیشنز کے مطابق خود کو ڈھال لے تو حالات کافی آسان ہو سکتے ہیں۔

حبیبل بشار نے کہا: ‘اگر ہم وہاں تھوڑا پہلے پہنچ سکیں تو یہ بہت اچھا ہوگا۔ اس سے ہمیں وہاں کے ماحول اور پچز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ آج کل ہر ٹیسٹ ٹیم بہت مضبوط ہے۔ پاکستان بھی ایک بہترین ٹیم ہے۔ رینکنگ میں نچلے نمبروں پر موجود ٹیموں کو نکال دیں تو ٹاپ چھ یا سات ٹیمیں بہت مسابقتی ہیں۔ کسی بھی بڑی ٹیم کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔’

‘غیر معمولی اقدامات کی ضرورت نہیں’

آسٹریلیا بلاشبہ عالمی کرکٹ کی سب سے مشکل ٹیموں میں سے ایک ہے، خاص طور پر اپنی سرزمین پر۔ لیکن حبیبل بشار کا ماننا ہے کہ بنگلہ دیش کو وہاں مقابلہ کرنے کے لیے کسی غیر معمولی یا جادوئی فارمولے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ‘آسٹریلیا بلاشبہ اس وقت دنیا کی نمبر ایک ٹیم ہو سکتی ہے۔ ان کے گھر میں ان کے خلاف کھیلنا ہمیشہ ہی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہم نے پہلے آسٹریلیا کا سامنا نہیں کیا، یا ہم ان کے بولرز یا اس طرح کی ٹیموں سے ناواقف ہیں۔ ہمیں کچھ بھی خاص کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہم صرف اپنی بہترین کرکٹ کھیلیں، تو مجھے یقین ہے کہ ہم آسٹریلیا کو ایک سخت مقابلہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔’

مستقبل کی حکمت عملی

بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے یہ سیریز نہ صرف پوائنٹس ٹیبل پر بہتری لانے کا موقع ہے بلکہ عالمی کرکٹ میں اپنی ساکھ کو مزید مستحکم کرنے کا ایک بہترین موقع بھی ہے۔ ٹیم کا موجودہ مورال بلند ہے اور چیف سلیکٹر کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ کھلاڑیوں پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میدان میں بنگلہ دیشی کھلاڑی اپنی اس بہترین فارم کو آسٹریلوی پچز پر کیسے ڈھالتے ہیں۔

کرکٹ شائقین کو اس سیریز کا بے صبری سے انتظار ہے، کیونکہ بنگلہ دیش کا موجودہ ٹیسٹ سکواڈ جس طرح کے کھیل کا مظاہرہ کر رہا ہے، اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ آسٹریلیا میں بھی دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔